Skip navigation
Sidebar -

Advanced search options →

Welcome

Welcome to CEMB forum.
Please login or register. Did you miss your activation email?

Donations

Help keep the Forum going!
Click on Kitty to donate:

Kitty is lost

Recent Posts


Qur'anic studies today
Yesterday at 05:35 PM

Freely down loadable Boo...
February 14, 2019, 09:47 PM

مدهش----- لماذا؟؟؟؟
by akay
February 14, 2019, 09:18 AM

Reading Quran And Inquiri...
February 13, 2019, 02:30 PM

Scientists and .............
by akay
February 13, 2019, 06:57 AM

NayaPakistan...New Pakist...
February 11, 2019, 07:06 PM

Richard Dawkins...
February 11, 2019, 05:42 PM

Theme Changer

 Topic: قرآن میں بیویوں کی پٹائی کی اجازت اور مسلما&#

 (Read 381 times)
  • 1« Previous thread | Next thread »
  • قرآن میں بیویوں کی پٹائی کی اجازت اور مسلما&#
     OP - August 05, 2018, 12:36 PM


    قرآنی آیت 4:34 میں بیویوں کے شوہر سے "بے رغبتی" دکھانے پر شوہروں کو حکم ہے کہ ان کی پٹائی کریں۔ یہ ایک گھناؤنا حکم ہے جسے انسانیت قبول نہیں کر سکتی کہ عورت کی پٹائی کی جائے تاکہ وہ "رغبت" کے ساتھ سیکس سروس مہیا کرے۔

    چنانچہ مسلمانوں نے قرآن کی ناموس بچانے کی خاطر اس کا غلط ترجمہ "نافرمانی" کرنا شروع کر دیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گھٹیا ترجمہ "سرکشی" کرنا شروع کر دیا۔

    ذیل میں ہم مسلمانوں کی اس دھوکہ دہی کا پردہ چاک کریں گے۔

     

    اسلام  میں بیوی کی پٹائی کرنے کی عام اجازت ہے، جس کا تعلق آیت 4:38 سے نہیں
    اسلام میں بیوی کی پٹائی کرنے کی "عام" اجازت شوہر کو حاصل ہے۔ اس کا تعلق آیت 4:34 سے نہیں ہے جو کہ ایکسٹرا بے رغبتی (پیار نہ ہونے) کی صورت میں بھی پٹائی کر کے زبردستی کی توجہ اور پیار حاصل کرنے کا حکم دے رہی ہے۔

    محمد جانتے تھے کہ اپنے قائم کردہ مذہب کو پھیلانے اور قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ محمد مسلمان صحابیہ عورتوں کو ناراض نہ کرتے۔ چنانچہ ابتدا میں جب مردوں نے اپنی بیویوں کو مارا پیٹا اور وہ صحابیہ عورتیں محمد کی پاس آئیں تو محمد نے مردوں کو مار پیٹ سے مکمل طور پر منع کر دیا۔

    لیکن اس کے بعد صحابیہ عورتیں دلیر ہو گئیں اور وہ اپنے مسلمان شوہروں کو مار پیٹ کی اجازت نہ دیتی تھیں اور اگر کوئی صحابی مار پیٹ کرتا تھا تو وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے محمد (حاکم) کے پاس پہنچ جاتی تھیں۔ اس پر اب صحابہ مردوں کو محمد سے شکایات پیدا ہو گئیں۔

    چنانچہ محمد کو لگا کہ صحابہ مردوں کو ناراض کرنا انکے نئے مذہب کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے، چنانچہ اس دفعہ انہوں نے مردوں کو کھل کر اجازت دے دی کہ وہ اپنی بیویوں کی پٹائی کر سکتے ہیں اور اس عام پٹائی کا تعلق آیت 4:34 سے نہیں ہے۔

    اس کا ثبوت آپ اس صحیح روایت میں دیکھ سکتے ہیں جہاں پٹائی کی یہ عام اجازت صحابہ مردوں کی شکایت پر دی جا رہی ہے۔

    سنن ابو داؤد، کتاب النکاح، حدیث 2146 (لنک):

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ".
    ترجمہ:
    ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو نہ مارو“، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: (آپ کے اس فرمان کے بعد) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ (مار پیٹ کرنے والے) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں“۔قال الشيخ الألباني: صحيح
     اس کے  بعد صحابی مرد شیر ہو گئے اور انہوں نے رج کر صحابیہ عورتوں کی پٹائی شروع کر دی اور محمد کا فقط یہ کہہ دینا کہ مار پیٹ کرنے والے مرد بہترین لوگ نہیں، یہ کام نہ آیا۔
    صحیح مسلم، کتاب الطلاق (لنک):
    ۔۔ (نبی نے فاطمہ بن قیس کو کہا) رہا ابوجھم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا مرد ہے (چنانچہ وہ اس سے شادی نہ کریں)۔
    اور یہ پٹائی مزید اس نہج پر پہنچی کہ جہاں مردوں کو پٹائی کرنے پر اللہ کی طرف سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں ہو گی۔

    سنن ابو داؤد، کتاب النکاح (لنک):

     ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ".
    عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی“
    خلاصة حكم المحدث : سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح]
    امام ابو داؤد نے اس روایت پر سکوت اختیار کیا ہے اور اہل مکتہ کے مطابق جس روایت پر امام ابو داؤد سکوت اختیار کریں تو وہ ان کے نزدیک صالح روایت ہے۔
    آپ یہاں جامعہ بنوریہ کا فتویٰ دیکھ سکتے ہیں (لنک) جہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ شوہر کے لئے بیوی کو نافرمانی کے ان تمام کاموں پر مارنے کی عام اجازت ہے جس پر شرعا کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مثلا شوہر کی جنسی خواہش پوری نہ کرنا۔ اس کے کہنے کے باجود زینت نہ کرنا۔ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا، اسے برا بھلا کہنا، بچوں کی ذمہ داری پوری نہ کرنا وغیرہ۔

     

    آیت 4:34 کا صحیح ترجمہ:
    سورۃ النسا، آیت 4:34 :

    الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
    ترجمہ

    مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی بے رغبتی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔

     

    چنانچہ اگر بیویاں بےرغبت ہو جائیں تو محمد قرآن کے ذریعے مسلمان مردوں کو لائسنس دے رہے ہیں کہ وہ ان کی توجہ اور انکا پیار حاصل کرنے کے لیے پہلے ان سے اپنے بستر جدا کر لیں۔ اور اگر اس پر بھی بیویاں رغبت نہ دکھائیں، تو پھر ان کی پٹائی کریں تاکہ وہ رغبت کے ساتھ ان مردوں کو سیکس سروس مہیا کر سکیں۔
    یہ ایک ایسا گھناؤنا حکم تھا کہ جسے انسانیت قبول نہیں کر سکتی۔
    چنانچہ آج ایک بار پھر مسلمان قرآن کی ناموس کو بچانے کے لیے میدان میں اترے اور انہوں نے یہ کام اس آیت کا غلط ترجمہ کر کے ادا کیا۔
    ان مسلمانوں نے دھوکہ دینے کے لیے اس آیت میں  عربی لفظ "نُشُوزَهُنَّ" کا ترجمہ بے رخی/بے رغبتی سے تبدیل کر کے "نافرمانی" اور اس سے بھی گھٹیا ترجمہ "سرکشی" کر دیا۔ بلکہ اس پر بھی ان مسلمانوں نے بس نہیں کیا، بلکہ آیت کے اس حصے کو پچھلے حصے سے جوڑ کر دعویٰ کیا کہ عورت کی پٹائی کی اجازت صرف اُس وقت دی جا رہی ہے جب وہ "بے حیائی" کرے۔
    آپ اس لنک پر اس آیت کے 25 مختلف ترجمے دیکھ سکتے ہیں جہاں ہر جگہ پر مسلمانوں نے دھوکہ دینے کی غرض سے لفظ "نُشُوزَهُنَّ" کا ترجمہ نافرمانی یا بے حیائی کیا ہوا ہے،
    مگر ان دھوکے باز مسلمانوں کی بدقسمتی کہ یہ لفظ "نُشُوزَهُنَّ" مشتق ہے لفظ "نشز" سے، جو کہ قران میں ایک اور جگہ آیت  4:148 میں بھی استعمال ہوا ہے اور وہاں چونکہ یہ شوہر کے لیے استعمال ہوا ہے، اس لیے وہاں مجبوراً ان دھوکے باز مسلمانوں کو اس لفظ "نشز" سے مشتق دوسرے لفظ "نشوزا" کا صحیح ترجمہ "بے رغبتی" کرنا پڑا ہے۔
    قرآن 4:128:
    وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلاَ جُنَاْحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا
    ترجمہ:
    اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں،(ترجمہ از طاہر القادری)
    کیا آپ نے یہاں قران کے دوہرے رویے دیکھے کہ جب عورت "نشز" دکھائے تو شوہر پہلے بستر علیحدہ کر کے اور بعد میں پٹائی کر کے اس کی رغبت حاصل کرے، مگر جب مرد یہی "نشز" دکھائے تو اس پر قرآن عورت کو کہہ رہا ہے کہ وہ مرد سے صلح کر لے۔
    اس ترجمے میں "نشوزا" کا ترجمہ ہے "بے رغبتی"، جبکہ "زیادتی" ترجمہ ہے عربی لفظ "اعراضا" کا جو اوپر آیت میں ساتھ موجود ہے۔ آپ اس آیت کے 25 اردو اور انگریزی ترجمے اس لنک میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں ہر جگہ "نشوزا" کا ترجمہ "بے رغبتی" کیا جا رہا ہے۔
    اور جو مسلمان دعوے کر رہے ہیں کہ یہ بستر علیحدہ کرنا اور پٹائی کرنا بیویوں کی رغبت حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ انکو بے حیائی کرنے کے جرم میں ہے، تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اسلام میں اگر بیوی بے حیائی کرے تو اس پر بستر علیحدہ کرنے کا نہیں، بلکہ "لعان" کا حکم ہے۔ ابن کثیر، قرطبی اور دیگر سلف مفسرین نے صاف صاف اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ بے حیائی کا حکم بستر علیحدہ کرنا یا پٹائی نہیں ہے، بلک اس صورت میں حکم "لعان" کا ہے (لنک)۔
    جب  صحابہ مردوں نے عورتوں کو حاکم ہونے اور  بے رغبتی کے نام پر مار مار کر ادھ موا کر دیا، تو تب بھی سب کچھ جاننے کے باوجود محمد نے اس پٹائی کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ زیادہ سے زیادہ ان صحابہ مردوں کو شرم دلائی کہ وہ کیسے جانوروں کی طرح پہلے بیویوں کی ٹھکائی کر سکتے ہیں اور پھر شام کو انہیں سے سیکس کر سکتے ہیں۔
    صحیح بخاری، کتاب الادب (لنک):
    وَقَالَ: بِمَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْفَحْلِ أَوِ الْعَبْدِ ثُمَّ لَعَلَّهُ يُعَانِقُهَا "
    ترجمہ:
    آپ صلعم نے فرمایا کہ تم میں سے کس طرح ایک شخص اپنی بیوی کو زور سے مارتا ہے جیسے اونٹ،  اور پھر شام کو پھر اسی سے ہمبستری کرتا ہے۔
    جانوروں کی طرح یوں ٹھکائی کرنا کچھ چھوٹی موٹی مار پیٹ نہیں ہے جیسا کہ مسلمان جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کا نبی خود ان مسلمانوں کو یہاں ٹھکائی کی نوعیت بتا کر انکی تکذیب کر رہا ہے۔
     
    اور مردوں کی اس بے رغبتی والی آیت 4:128 کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتا ہے (لنک):
    میاں بیوی میں صلح وخیر کا اصول اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لئے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لئے جائز ہے ۔۔۔ بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت سودہ کا دن بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ کو دیتے تھے۔ حضرت عروہ کا قول ہے کہ حضرت سودہ کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو صدیقہ سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راضی ہو جائیں اور مجھے نہ چھوڑیں۔
    یہاں آپ صاف صاف دیکھ سکتے ہیں کہ "نشوز" کا کوئی بھی تعلق "نافرمانی" یا "سرکشی" سے نہیں ہے، بلکہ اسکا تعلق "رغبت" سے ہے۔
    ایک بار پھر قرآن کے دہرے ریویوں پر غور کیجئے:
    جب بیوی بے رغبتی کا مظاہرہ کرے، تو قرآن شوہر کو کہتا ہے کہ اسکی پٹائی کر کے اسے رغبت دکھانے پر مجبور کرے۔
    لیکن جب شوہر بے رغبتی دکھائے، تو الٹا بیوی کو ہی مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ شوہر کی خوشی حاصل کرنے کے لیے اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔ اور اس "بلیک میلنگ" کو قرآن میں"صلح" کا نام دے کر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
     

    [/font][/size]
  • قرآن میں بیویوں کی پٹائی کی اجازت اور مسلما&#
     Reply #1 - August 05, 2018, 01:05 PM

    Hi  Jibrael   So glad to see you back.. and to read your words....,   Looooong time no see...

    4 pots in 4 years .. but they are worth reading .. keep fighting.. keep struggling .. there is ocean of currents  for you to swim against..

    with best wishes
    yeezevee

    Do not let silence become your legacy  
    I renounced my faith to become a kafir, 
    the beloved betrayed me and turned in to  a Muslim
     
  • قرآن میں بیویوں کی پٹائی کی اجازت اور مسلما&a
     Reply #2 - August 05, 2018, 07:56 PM

    hI yeezevee

    Thank you my friend for the kind words.

    You are absolutely right about the swimming against the ocean of currents.

    And I am ready for it.

    I will post more stuff soon and this time it will not take years.  Smiley

  • 1« Previous thread | Next thread »